براہ راست مواد پر جائیں

سندھ حکومت اور چینی کمپنی کا کراچی میں اے آئی کے لیے جدید ڈیٹا سینٹر قائم کرنے پر اتفاق

21 اگست 2026
سندھ حکومت اور چینی کمپنی کا کراچی میں اے آئی کے لیے جدید ڈیٹا سینٹر قائم کرنے پر اتفاق
سندھ حکومت اور چینی کمپنی سی ایم پاک نے کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اے آئی ریڈی ٹئیر تھری ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سی ایم پاک کے…

سندھ حکومت اور چینی کمپنی سی ایم پاک نے کراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اے آئی ریڈی ٹئیر تھری ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیش رفت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سی ایم پاک کے چیئرمین و سی ای او ہوو جون لی کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق کمپنی نے بتایا کہ ٹئیر تھری اے آئی ریڈی ڈیٹا سینٹر کو عام ٹیلی کام تنصیبات کے مقابلے میں زیادہ اور بلا تعطل بجلی درکار ہوگی۔ کمپنی نے منصوبے کے لیے صنعتی بجلی ٹیرف، گرڈ کی استعداد میں اضافہ، متبادل بجلی سپلائی اور ترجیحی سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو سی ایم پاک کی تجاویز کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے منصوبے کے لیے مکمل صوبائی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے منصوبے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل اور تکنیکی خودمختاری کے لیے اہم ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت ایسی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتی ہے جو جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کی ملازمتوں اور کراچی کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا ہوسٹنگ اور ڈیجیٹل جدت کے علاقائی مرکز کے طور پر آگے بڑھانے میں مدد دے۔

سی ایم پاک کے مطابق کمپنی پاکستان میں 5 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے اور ملک میں 3 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کر چکی ہے۔ کمپنی 20 سے زیادہ شہروں میں 5G سروسز بھی شروع کر چکی ہے۔

سی ایم پاک کے چیئرمین ہوو جون لی نے کہا کہ کراچی میں مجوزہ ڈیٹا سینٹر محفوظ مقامی ڈیٹا ہوسٹنگ، جدید کلاؤڈ سروسز، اے آئی انفراسٹرکچر اور کاروباری اداروں کی ڈیجیٹل تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

خبر شیئر کریں