براہ راست مواد پر جائیں

ٹرمپ کی نامزد امیدوار کا وائس آف امریکا کے صحافیوں کو واپس بلانے کا عندیہ

31 جولائی 2026
ٹرمپ کی نامزد امیدوار کا وائس آف امریکا کے صحافیوں کو واپس بلانے کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائس آف امریکا کے نگران ادارے کی سربراہی کے لیے نامزد سارہ بی راجرز نے کہا ہے کہ سینیٹ سے منظوری ملنے کی صورت میں وہ ان متعدد صحافیوں کو دوبارہ کام پر بلائیں گی جنہیں گزشتہ سال جبری رخصت…

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائس آف امریکا کے نگران ادارے کی سربراہی کے لیے نامزد سارہ بی راجرز نے کہا ہے کہ سینیٹ سے منظوری ملنے کی صورت میں وہ ان متعدد صحافیوں کو دوبارہ کام پر بلائیں گی جنہیں گزشتہ سال جبری رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔

سارہ راجرز نے سینیٹ میں اپنی سماعت کے دوران کہا کہ ادارے میں اصلاحات اور جدید کاری ضروری ہے، تاہم کارکنوں کو دوبارہ ملازمت پر واپس آنا چاہیے۔ ان کے بیان کو ٹرمپ انتظامیہ کی اس سابقہ پالیسی سے نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت وائس آف امریکا اور دیگر سرکاری مالی معاونت سے چلنے والے نشریاتی اداروں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

گزشتہ سال وائس آف امریکا کے سینکڑوں صحافیوں اور معاون عملے کو تنخواہ کے ساتھ رخصت پر بھیج دیا گیا تھا، جبکہ ادارے کی نشریات بھی 49 زبانوں سے کم ہو کر ایک درجن سے بھی کم زبانوں تک محدود ہو گئی تھیں۔

سارہ راجرز نے افریقہ، خصوصاً ساحل کے خطے میں نشریاتی سرگرمیاں بحال کرنے اور لاطینی امریکا کی سروس دوبارہ شروع کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور چین کی جانب سے جاری پروپیگنڈا مہمات کے مقابلے کے لیے ان علاقوں میں وسائل کی محتاط بحالی ضروری ہو سکتی ہے۔

انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ وائس آف امریکا اور دیگر سرکاری معاونت یافتہ اداروں کے ادارتی فیصلوں میں مداخلت نہیں کریں گی اور بین الاقوامی نشریات کی پیشہ ورانہ آزادی کا احترام کریں گی۔

🏷️ متعلقہ ہیش ٹیگز اور کی ورڈز:
خبر شیئر کریں